Type Here to Get Search Results !

Ek umeed lagay bethy thy

اک امید لگائے بیٹھے تھے ہم اُسے اپنا بنائے بیٹھے تھے اپنے دل کی بات مان بیٹھے تھے اس سے پیار کر بیٹھے تھے جب کی نکاح کی بات میر وہ اپنے مسلے نکال بیٹھے تھے وہ ٹایم پاس کر رہے تھے ہم اُسے پیار سمجھ بیٹھے تھے میں گیا تھا اپنے گاؤں کے قبرستان وہاں تیرے عاشق لیٹے تھے ذکر کیاتھا تیرا جاناں جواب ملا ہم بھی قتل ہوئے بیٹھے ہیں..
Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad