اک امید لگائے بیٹھے تھے ہم اُسے اپنا بنائے بیٹھے تھے اپنے دل کی بات مان بیٹھے تھے اس سے پیار کر بیٹھے تھے جب کی نکاح کی بات میر وہ اپنے مسلے نکال بیٹھے تھے وہ ٹایم پاس کر رہے تھے ہم اُسے پیار سمجھ بیٹھے تھے میں گیا تھا اپنے گاؤں کے قبرستان وہاں تیرے عاشق لیٹے تھے ذکر کیاتھا تیرا جاناں جواب ملا ہم بھی قتل ہوئے بیٹھے ہیں..
Ek umeed lagay bethy thy
May 13, 2023
0
Tags