Type Here to Get Search Results !

خوشی کو پانے کا نسخہ بدل کے آئے ہیں

خوشی کو پانے کا نسخہ بدل کے آئے ہیں ہم اپنے دل کی تمنا بدل کے آئے ہیں ہماری خوبیاں کیسے انہیں نظر آئیں کہ وہ نظر نہیں چشمہ بدل کے آئے ہیں روایتوں کو بناتے نہیں ہیں حسن غزل کے ہم غزل کا مقالہ بدل کے آئے ہیں جواہرات کے دانے ہیں تار سونے کے نئے شکاری ہیں پنجرہ بدل کے آئے ہیں وہ مفلسوں کی تھی بستی اسی لئے شاید کھلونے والے بھی رستہ بدل کے آئے ہیں ہوائیں اپنے ٹھکانوں کو لوٹ جائیں گی ہم اپنی کھڑکی کا پردہ بدل کے آئے ہیں ادیبؔ فرق نہیں دوست اور دشمن میں کہ دوست بھی تو مکھوٹا بدل کے آئے ہیں ادیب دموہی
Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad